چنتامنی:10 /نومبر(محمد اسلم /ایس او نیوز )اولین مرد مجاہد حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ ایک بہترین شخص ہی نہیں بلکہ جمہوریت اور سیکولرزم کے علمبردار تھے دنیا میں راکٹ ٹیکنا لوجی کے بانی ہونے کا شرف انہی کو حاصل ہے اور ہندوستان میں جدید تکنک کا استعمال کرنے والے پہلے بادشاہ بھی تھے جو بعد میں ہندوستانیوں کیلئے بے حد مفید ثابت ہوا اور آج بھی ان کی ٹکنا لوجی قابل ستائش ہے ان خیالات کااظہار رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے کیا ۔
شہر کے لکشمی بائی جھانسی رانی اسٹیڈیم میں قومی تہوار سمیتی و تعلقہ انتظامیہ کے زیر اہتمام منعقدہ ٹیپو جینتی کے تقریب میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر لاعلموں کو اتنا بھی پتہ نہیں کہ ٹیپو سلطان نے شردھا مندر کیلئے اپنے خزانے سے رقم جاری کی تھی اور سری شنکر چاریہ سوامی جی کو انہوں نے جگد گرو کہہ کر مخاطب کیا تھا اور قریب تیس خط میں تین کنڑا زبان میں انہوں نے شنکراچاریہ کوخط لکھا تھا۔ تمام لقب کے ساتھ سوامی کو خط لکھے گئے تھے اور آخر میں اپنے نام کے ساتھ ٹیپو شہیدؒ نے کوئی لقب کا استعمال نہیں کیا۔کرشناریڈی نے کہا کہ ٹیپو سلطان محب وطن تھے ایک بہترین اور اعلیٰ سوچ رکھنے والے بادشاہ تھے جنہوں نے ہر قوم و مذہب کے لوگوں کے لیے فلاحی و بہبودی کاکام کیا ہے اور اس کیلئے کئی سارے ثبوت ہمارے سامنے موجود ہیں انہوں نے آرایس ایس اور بی جے پی کو چیلنج کیا کہ ٹیپو کے ہندو مخالف ہونے کا ایک بھی ثبوت اگر اُن کے پاس ہوتو اُسے پیش کریں۔
تقریب کے مقرر خصوصی ڈاکٹر انیل کمار نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ملک ہندوستان کیلئے ٹیپو کی دین بہت ہے ٹیپو میں کئی صلاحیتیں موجود تھیں دور اندیشی کے ساتھ انہوں نے اچھا انتظامیہ فراہم کرکے ایک قابل اور انصاف پسند حکمران ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا ۔ انیل کمار نے کہا کہ ٹیپو نے اپنے دور اقتدار میں تعلیم ماحولیات تجارت آبپاشی ٹیکنا لوجی خواتین کو تحفظ دلتوں کی فلاح و بہبودی کسانوں کی ترقی اور دیگر شعبوں کو اولین ترجیح دی تھی اور عوامی منصوبوں کو جاری کر کے رعایا میں کافی مقبولیت حاصل کی تھی ۔
انیل کمار نے مزید کہا کہ ٹیپو ہر مذہب کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا تھا اور اس ملک سے بہت محبت کرتے تھے کتابوں سے ٹیپو کو خاص لگاؤ تھااور کنڑازبان کی ترقی کیلئے بھی ٹیپو نے بہت کچھ کیا ہے ہر چھ کیلومیٹر کی دوری پر اسکولوں کی تعمیر کرکے انہوں نے تعلیم کو بہت اہمیت دی تھی اور 1794میں کے آر ایس ڈیم کیلئے سنگ بنیاد بھی رکھاتھا ۔ انہوں نے اور کہا کہ آج چند فرقہ پرست اور ماوادی طاقتیں حضرت ٹیپو سلطانؒ پر بے تکے اور بے بنیاد الزامات عائد کررہی ہے ماوادی طاقتیں چاہئے کتنا ہی کیوں نہ زور لگائیں حقیقت سے پردہ پوشی ناممکن ہی نہیں بلکہ ناکام کوشش ہے اگر ٹیپو فرقہ پرست یا ایک مذہبی حکمراں ہوتے تو مندروں کو جائیداد اور تحائف دینے کیلئے حتی الامکان گریز کرتے ۔ انیل کمار نے کہا کہ ٹیپو کی شہادت اور اس کی اطلاع کے بعد جنرل ڈیوک آف ولنگٹن کو بھی یقین نہیں تھا کہ ٹیپو شہید ہوچکے ہیں جب نے سلطان کی نعش کو اپنے آنکھوں کے سامنے دیکھا تو ایک بہادر کی طرح ٹیپو شہید کو سلیوٹ کیا اور تاریخی جملہ کہا کہ آج سے ہندوستان ہمارا ہے اور اب کوئی طاقت ہماری راہ نہیں روک سکتی ٹیپواپنی تمام زندگی جنگ میں مصروف رہے کبھی انگریزوں سے تو کبھی نوابوں اور مراہٹوں سے نبردآزمارہے تھے وہ صرف ہندوستان کی آزادی نہیں بلکہ ہندوستان میں انگریزوں کو ذلیل اور کمزور کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ ملک کیلئے خبرہ نہ بنیں اسی دور اندیشی کے تحت انہوں نے خطوط روانہ کئے جس میں مختلف ممالک سے امداد طلب کی اور اپنے سفیروں کو بھیجے تاکہ میسور سلطنت کو استحکام ہو اور انگریزوں کو عبرتناک شکست دے کر پورے ملک کو انگریزوں کے جبر واستبداد سے بچایا جاسکے ۔
تقریب کے اختتام میں کئی اہم لوگوں کی نشاندہی کرکہ انہیں تہنیت پیش کرکہ خوب عزت وافزائی کی گئی اس کے علاوہ ایس ایس ایل سی میں نمایاں کامیاب طلباء کی بھی نشاندہی کرکہ تہنیت پیش کی گئی اس موقع پر ڈپٹی کمشنر دیپتی کناڈی ایس پی چاتئرا تحصیلدار ایم۔گنگپا ڈی وائی ایس پی کرشنامورتی بلدیہ صدر ایم ۔سجاتا شیوناتعلقہ پنچایتی صدر شنتما منسپالٹی کمشنر ڈی۔مہیش کمار تعلقہ پنچایتی ای۔او۔سی۔شرنیواس بی ای او محمد خلیل شیخ صادق رضوی سمیت ٹیپو کے نام سے موجود تنظیموں کے کارکنان کے علاوہ کئی احباب شریک تھے۔